مہر خبررساں ایجنسی نے ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ افغانستان کا دارالحکومت کابل گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگ کا شکار ہے جس کے نتیجے میں ہزاروں افراد جان کھو بیٹھے ہیں جبکہ شہر میں آلودگی سے اموات کی شرح بھی تشویش ناک صورت اختیار کر چکی ہے۔
افغانستان کی وزارت صحت کا کہنا تھا کہ کابل میں آلودگی کے باعث سالانہ 3 ہزار سے زائد افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ افغانستان میں فضائی آلودگی جنگ سے زیادہ ہلاکتوں کا باعث ہے۔ افغانستان میں 2016 تک فضائی آلودگی سے 51 ہزار سے زائد ہلاکتیں ہوئیں۔
کابل کا شمار دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں ہوتا ہے جہاں چلنے والی ہوا مختلف بیماریوں کا باعث بن جاتی ہے اور سب سے بڑا شکار بچے ہوتے ہیں۔ افغانستان میں فضائی آلودگی کے اسباب میں پرانی گاڑیاں، ناقص ایندھن، گلیوں میں کچرے کو جلانا شامل ہے۔
آپ کا تبصرہ